Back to Main News Page

گلاب کی کاشت اور کاروبار

گلاب کی کاشت اور کاروبار 

صوبہ سندھہ کا ضلع حیدرآباد موسمی لحاظ سے نہ صرف زراعت بلکہ مختلف پھلوں کے باغات اور گلاب کی کاشت کے لءے موضون سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر حیدرآباد تعلقہ دیہی گلاب کی پیدوار کا مرکز ہے جہاں سے گلاب کے کھیت کے مالی صبح سویرے ٹوکریان بھر کر حیدرآباد پھول مارکیٹ پہنچتے ہیں۔ اسی طرح روزانہ -۳۵-۳۰ مزدا گاڑیاں پھول لے کر کراچی جاتی ہیں۔ ان میں خاص طور پر عام بیوپاری ہوتے ہیں جو کھیتوں سے مال خرید کر اکٹھے کراچی پہنچتے ہیں۔ نیشنل ہاءی وے پر سفرکے دوران مٹیاری شہر سے حیدرآباد کی طرف آتے ہوءے جیسے ہی تاریخی طور مشہور میانی جنگلات کے ارد گرد نظر پڑے گی تو ھاءی ہے کے دونون طرف گلاب کے کھیت ہی نظر آءیں گے۔ گلاب کے پھول توڑنے کے لءے صبح سویر خواتین مزدور آتی ہیں  جو صرف دو تین گھنٹوں میں کھلتے گلاب توڑ کر چلی جاتی ہیں۔ پھر گلاب کے مالی وہ گلاب ٹوکری بھر کر مارکیٹ لے جاتے ہیں۔ گلاب کے مالیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت جنوری کے مہینے میں زیادہ سردی کی وجہ سے فی ایکڑ ۲۰--۲۲ کلوگرام پروڈکٹ بنتی ہے جب کہ عام مہینوں میں خاص طور پر فیبروری ، مارچ اور اپریل میں یہ پراڈکٹ بڑھ جاتی ہے۔ پورے سال میں اپریل اور نومبر دو ایسے مہینے ہیں جب فی ایکڑ گلاب کی پیداوار دو من سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ حیدرآباد تعلقہ رورل کی یونین کاوءنسل بارچانی کے گاوءں گلبہار مری کے مالی بنگل مری کا کہنا تھا کہ گلاب کا پودہ ایک ننہے بچے کی مانند ہوتا ہے جس کو مالی پانی اور کھاد دے کر پالتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلاب کھیت دوسرے فصلوں سے اس لءے مختلف ہے کہ یہ روزانہ کی پیداوار دیتا ہے اور سال کے ۳۶۵ دن یہ کاروبار چلتا رہتا ہے۔ مالی ہر روز ٹوکریان بھر کر مارکیٹ جاتے ہیں اور مناسب آمدنی لیکر گھر لوٹتے ہیں۔ اگر دیکھا جاءے تو گنے کی کاشت والے ہاری پورا سال غیر یقینی والی صورتحال میں انتظار کرتے ہیں اور اسی طرح کپاس اور گندم کے ہاری چھہ مہینے انتظار کرتے ہیں جب کہ پھول ۳۶۵ دن آمدنی دلاتا ہے۔  گلاب کی خصوصیت ہے کہ اس کی کھپت شادی، اور دوسرے خوشی کے دنوں کے ساتھ عید، اور مختلف مذہبی تھوار کے دوران زیادہ ہوتی ہے۔ اس وقت مالی گلاب اور دوسرے پھولوں کی پیداوار کو کاٹج انڈسٹری کہتے ہیں۔ صبح سویر پھول کی چناءی ہوتی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد سمیت ہر مارکیٹ میں پھول صبح ۹ بجے تک پہنچیں گے تو اس کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اس لءے کاروباری لوگ مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوےء مال لے کر جلدی مارکیٹ پہنچتے ہیں تا کہ مناسب قیمت لے سکیں۔  بزرگ مالیوں کا کہنا ہے کہ آج سے ۱۵ -۲۰ سال پہلے عام دنوں میں بھی فی ایکڑ پیداوار ساٹھہ سے ۸۰ کے جی نکلتے تھے جب کہ اب ۲۰-۲۵ کے جی ملتے ہیں۔ اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت کا بڑھنا، پانی کی کمی اور کیمیکل کا زیادہ استعمال ہے جس سے زمیں کی زرخیزی متاثر ہوءی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب زمیں میں وہ طاقت شاید نہیں رہی ہے اور فصل کی پیداوار کم ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلاب کی کاشت چھوٹے آبادگار اور مزدور کا ذریعہ معاش ہے۔ پھول چننے والی سینکڑوں خواتین، عام مزدور، ڈراءور سمیت کءی لوگوں کے گذر کا دارومدار گلاب کی کاشت پر ہوتا ہے۔ پھول کے کاروبار اور کاشت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سارے زمیندار جو ایک ایکڑ زمین کے مالک ہیں تو گلاب کی کاشت کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ یہ روزانہ آمدنی کمانے کا کام ہے۔ 
Back to Main News Page
Loading...